قومی اسمبلی: نواز، شہباز، زرداری، مولانا، بلاول، بیرسٹر گوہر سمیت 302 ممبران نے حلف اٹھا لیا

Share

16 ویں قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 1 گھنٹے سے زائد کی تاخیر سے شروع ہوا۔

اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول پیش کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت سابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کی۔

نو منتخب ارکانِ قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اراکین سے حلف لیا۔

302 ارکان نے حلف اٹھایا

قومی اسمبلی کے 336 میں سے 302 اراکین نے حلف اٹھا لیا اور رول آف ممبر پر دستخط کر دیے۔

نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عمر ایوب، اختر جان مینگل، خالد مگسی، محمود اچکزئی، چوہدری سالک حلف اٹھانے والے قومی اسمبلی کے اراکین میں شامل ہیں۔

موجودہ قومی اسمبلی کا ایوان 336 ارکان پر مشتمل ہے، قومی اسمبلی کی 266 نشستوں پر براہِ راست انتخابات کے ذریعے ارکان منتخب ہوتے ہیں، باقی ارکان مخصوص نشستوں پر ایوان کا حصہ بنتے ہیں۔

حلف برداری کے بعد دوسرا مرحلہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہے۔

ایاز صادق اور عامر ڈوگر کے اسپیکر کیلئے کاغذات جمع

قومی اسمبلی کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے لیے مسلم لیگ ن و اتحادیوں اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل اور اتحادیوں کی طرف سے نامزد امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے گئے۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا وقت آج دن 12 بجے تک مقرر تھا جس سے قبل یہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے۔

سیکریٹری قومی اسمبلی نے ایوان کے اندر ہی کاغذاتِ نامزدگی وصول کیے۔

مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی طرف سے اسپیکر کے لیے سردار ایاز صادق جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ نامزد امیدوار ہیں جنہوں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے۔

پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل اوراتحادیوں کی طرف سے اسپیکر کے لیے عامر ڈوگر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے جنید اکبر نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

نئے اسپیکر کا انتخاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف کرائیں گے جبکہ نئے اسپیکر اپنے انتخاب کے بعد ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کرائیں گے۔

اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب خفیہ ووٹنگ سے کل بروز جمعہ ہو گا۔

حلف سے قبل اور بعد شدید نعرے بازی

اراکینِ قومی اسمبلی کے حلف اٹھانے سے قبل اور حلف اٹھانے کے بعد شدید نعرے بازی ہوئی، ایوان مچھلی بازار بن گیا۔

مسلم لیگ ن کے اراکین نے اپنے قائد نواز شریف کے حق میں اور بانیٔ پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی کی۔

سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے بانیٔ پی ٹی آئی کے حق میں اور میاں نواز شریف کے خلاف نعرے لگائے۔

مسلم لیگی ارکان نے قائدِ ایوان کے ڈیسک کے سامنے حصار بنا لیا، نواز شریف کی کرسی کے اطراف جمع ہو کر نعرے لگانے لگائے۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ہاؤس آرڈر میں کرنے کی بار بار ہدایت کی۔

تقریبِ حلف برداری اور ایوان کی کارروائی کے دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اسحاق ڈار وزیٹر گیلری میں موجود تھے۔

مسلم لیگ ن کے ارکان نے نواز شریف کے گرد حصار بنا کر شیر شیر کے نعرے لگائے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ارکانِ اسمبلی کو مسلسل نظم و ضبط قائم رکھنے کی تلقین کے ساتھ کہتے رہے کہ ممبران اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑنے والے ممبران اپنے اوتھ سائن کر لیں۔

علیم خان کو دستخط کرنے کے لیے بلایا گیا تو سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ’لوٹا لوٹا‘ اور بانیٔ پی ٹی آئی کے حق میں نعرے لگائے۔

عامر ڈوگر نے حلف پر دستخط کرنے کے بعد قیدی نمبر 804 کے نعرے لگائے، سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ڈیسک بجا کر خیر مقدم کیا۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسپیکر ڈائس کے گرد جمع ہو گئے، اس موقع پر جمشید دستی نے نعرے بازی کی۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے ہدایت کی کہ گیلری سے کوئی نعرےبازی نہیں کرے گا ورنہ میں ان کو باہر نکال دوں گا۔

گیلری میں نعرے لگانے والے نوجوان کو سیکیورٹی اہلکاروں نے ایوان سے باہر نکال دیا۔

ن لیگی ارکان مسلسل ’گھڑی چور، گھڑی چور‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

بلاول بھٹو نے ایوان میں مولانا فضل الرحمٰن،اختر مینگل اور مختلف ارکان کی نشستوں پر جا کر ان سے مصافحہ کیا اور خیریت دریافت کی۔

اس دوران نواز شریف اور شہباز شریف اپنی نشستوں پر براجمان رہے۔